بنگلورو۔14؍ اگست(ایس او نیوز) ریاست میں کانگریس حکومت کے دور میں 20 سے زائد آر ایس ایس کارکنوں کے قتل کی شکایت آج آر ایس ایس نے بی جے پی کے قومی صدر امیت شا کو پیش کی اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے سفارش کی جائے کہ ریاستی حکومت کے خلاف کارروائی ہو۔ آج امیت شا کے دورۂ بنگلور کے آخری دن آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کیشو کرپا میں امیت شا نے حاضری دی، اس مرحلے میں آر ایس ایس لیڈروں نے الزام لگایا کہ ریاست کی سدرامیا حکومت کے دور میں منظم طور پر آر ایس ایس کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہاہے، اب تک 20 سے زائد کارکنوں کا قتل ہوا ہے، ریاست میں نظم وضبط کا نظام ٹوٹ چکا ہے، اسی لئے آر ایس ایس کارکنوں کو عوام تک پہنچ کر کام کرنا دشوار ہوچکا ہے۔ اسی لئے مرکزی حکومت سے سفارش کی جائے کہ ریاست میں آر ایس ایس کارکنوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ آر ایس ایس کے ساتھ وشواہندو پریشد، ہندو جاگرنا ویدیکے ، بنواسی کلیانی ، سیوا بھارتی، ہندو مزدور سنگھ، اور دیگر ہندو تنظیموں کے نمائندوں نے بھی امیت شا سے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت پر مرکز کے ذریعہ لگام کسی جائے۔ اس مرحلے میں امیت شا نے ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کو اس بات کیلئے آڑے ہاتھوں لیا کہ کرناٹک میں آر ایس ایس کے اتنے کارکنوں کا قتل کردیاگیا اور بی جے پی خاموش تماشائی بنی رہی ، اس کے خلاف تحریک چلائی جانی چاہئے تھی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں ایک قانونی شعبہ بھی قائم ہے، اتنی زیادہ وارداتوں کے بعد وہ کیا کررہاتھا۔ ان وارداتوں کو روکنے عدالتوں میں مفاد عامہ عرضی دائر کیوں نہیں کی گئی۔ پارٹی کے قومی صدر ہوتے ہوئے ان باتوں پر بھی مجھے رہنمائی کرنی پڑے گی؟۔